سانحہ 13 اکتوبر 2025 - شہدائے لبیک یا اقصیٰ
اکتوبر 2025 میں تحریک لبیک پاکستان نے فلسطین و غزہ کے مظلوم مسلمانوں اور القدس کی حرمت کے لیے آواز بلند کرنے کی خاطر اسلام آباد کی طرف لبیک یا اقصیٰ مارچ کا اعلان کیا۔
مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر فورسز نے لاہور میں مرکز پر حملہ کیا، جہاں ہمارے دو کارکن شہید ہو گئے۔
اس کے باوجود کارکن ثابت قدم رہے اور مارچ لاہور سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں فورسز نے ظلم کی انتہا کر دی: مارچ کو چاروں طرف سے گھیر کر نہتے، پُرامن کارکنوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا۔ آج تک شہداء کی تعداد کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
اس ظالمانہ کریک ڈاؤن کے بعد حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کر دی اور ہمارے امیر کو نا حق گرفتار کر لیا، جو آج تک عوام یا کسی کھلی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
ان شہداء کا خون صرف عشقِ رسالت مآب ﷺ اور مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں بہایا گیا۔ تحریک لبیک پاکستان اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شہداء کی اصل تعداد ظاہر کی جائے، پابندی ختم کی جائے، انصاف کیا جائے، اور ہمارے امیر سمیت تمام گرفتار کارکنوں کو عدالت میں پیش کر کے رہا کیا جائے۔